ایڈیشنز
Urdu

قبائلیوں کےلیے بہترین نوکری قربان کردی.. موبائل سے حل کی جا رہی ہیں مشکلات

7th Feb 2016
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share

اکثر کہا جاتا ہے اچھے انسان وہ ہوتے ہیں جو دنیا میں کامیابی حاصل کرتے ہیں لیکن ان سے بہتر انسان وہ ہوتا ہے جو کامیابی تو حاصل کرے ساتھ ہی بنیادوں کو مضبوط بناتا چلےاور ترقی حاصل کرے- تکنالوجی سے وابستہ دنیا کی سب سے بڑی تنظیم BBC گارڈین میں 20 سال سے کام کرنے والے ایک شخص ہیں جنہوں نے آدی واسی علاقے میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو سمجھا – نکسلزم کے مسئلے کی وجہ تلاش کی اور پھر اسے جدید تکنالوجی، موبائل و انٹرنیٹ کے ذریعے ان مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔

یہ کہانی اس انسان کی ہے جس نے ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کیا جس کے ذریعے جمہوری نظام کو مضبوط کیا جاسکتا ہے - جہاں عام آدمی بھی رپورٹر بن کر اپنے مسائل دوسروں کے سامنے بلاجھجھک رکھ سکتا ہے، وہ بھی صرف اپنے موبائل سے۔

image


شوبھانشو چودھری چھتیس گڑھ کے کوریا ضلع کے منوندرا گڑھ میں پیدا ہوئے - اسی لیے بچپن سے وہ ادی واسیوں کی زندگی ،ان کے رہن سہن ، ان کےمسائل سے واقف تھے - بچپن کی باتیں صحافی بننے کے بعد اور مضبوط ہوگئیں۔ بس جب صحیح وقت میسر ہوا تو انھوں نے اسے حل کرنے کی کوشش کی- اصل میں جس علاقے سے ان کا تعلق ہے یہ ملک کاوہ علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ آدی واسی رہتے ہیں - اس علاقے میں نکسلزم کا مسئلہ بہت شدید ہے - ان علاقوں میں بجلی، پانی ،سڑک ، تعلیم اور صحت جیسی انمول سہولتیں آدی واسیوں کی پہنچ سے بہت دور ہیں -کم پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے وہ اپنے مسائل متعلقین تک پہنچانا نہیں جانتے۔ یہ لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ سرکاری دفتروں تک اپنی بات کیسے رکھی جائے۔ لیکن اب اس علاقے میں بھی تبدیلی دیکھی جارہی ہے- وہ بھی شوبھانشیو چودھری کی ایک کوشش کی وجہ سے - یہ انہیں کی کوشش کا نتیجہ ہے کہ اب آدی واسی لوگ اپنی زبان میں اپنے طریقے سے سرکار تک نہ صرف اپنی شکایت پہنچاتے ہیں بلکہ ا ن پر دباؤ بڑھاکر اپنے علاقے کے ادھورے کام بھی پورے کرواتے ہیں -

image


پیشے سے صحافی شوبھانشو چودھری کے مطابق ،

"اگر ہم ٹکنالوجی کا استعمال تخلیقی طریقے سے کریں تو اس کا نتیجہ کافی اچھا ہوگا- تکنالوجی کے ذریعے ہم کئی مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں اوراگر میڈیا جمہوری طریقے سے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لئے کام کرے تو پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں-"

اگر میڈیا کا استعمال لوگوں کے مسائل حل کرنے کےلیے کیا جائے توبہت اچھی بات ہوگی۔ 'سی جی نیٹ سور' جس کا مطلب ہے 'سینٹرل گونڈوانا کی آواز'، یہ وہ پلیٹفارم ہے جہاں پر آدی واسی لوگوں کے مسائل کو رکھا جاتا ہے- ان کے مسائل کو سن کر ان کا حل نکالا جاتا ہے- اور یہ سب ایک موبائل فون کی مدد سے ہوتا ہے-

image


شوبھانشو چودھری کا کہنا ہے،"

آج کے دور میں موبائل ہر جیب کا حصہ ہے اس لئے گونڈوانا علاقے میں رہنے والا کوئی بھی آدی واسی اس نمبر 8050068000پر بات ریکارڈ کرکے اپنی بات رکھ سکتا ہے- جس کے بعد' سی جی نیٹ سور' کی ٹیم اس مسئلہ کو سنتی ہے اور اس پر مکمل معلومات حاصل کرکے ایک آڈیو اپلوڈ کردیا جاتا ہے- تاکہ دوسرے بھی اس مسئلہ کو سنیں۔ اگر کسی شخص کا مسئلہ حل کیا ہوتا ہے تو مسئلہ کی تفصیلات سے واقف کرواتا ہے -اس نے کیا کیا ؟کون سے افسران سے ملا ؟ وغیرہ۔ ان کےفون نمبرز تاکہ لوگ ان سے رابطہ کرکے اپنے مسئلے بھی بتا سکیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ٹیچر اسکول پابندی سے یا بالکل نہیں آتا تو اس کی شکایت سی جی نیٹ سور کے پلیٹ فارم میں کی جاتی ہے- جس کے بعد دوسرے لوگ بتائے گئے فون نمبر پر رابطہ قائم کرکے اس ٹیچر پر پریشر ڈال سکیں-
image


اس طرح نہ صرف مسائل حل ہوتے ہیں بلکہ سب کے ملنے سے ایک مضبوط طاقت بن جاتی ہے- شوبھانشیو نے یوراسٹوری کو بتایا ،

"ہم لوگوں کو اس بات کی ٹریننگ دیتے ہیں کہ وہ اپنی بات کس طرح بیان کریں - ہم جگہ جگہ نکڑ ناٹک ، کٹھ پتلی رقص کا انتظام بھی کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج ہزاروں آدی واسی اخباری رپورٹر یا صحافی بن چکے ہیں جو اپنے علاقے کے مسائل اور ان کا حل دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر شیئر کرتے ہیں –"
image


شوبھانشیو چودھری کے مطابق وہ 2004 میں لوگوں کے مسائل ایک دوسرے تک پہنچا نے کی کوشش کرنا چاہتے تھے لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوسکا جس کے بعد 2009 میں ان کو یہ خیال آیا کہ موبائل کو انٹرنیٹ سے جوڑ کرایسی طاقت تیار کی جاسکتی ہےجو لوگوں کے مسئائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے- گونڈی زبان کا یہ پلیٹ فارم آج نہ صرف چھتیس گڈھ میں بلکہ اڑیسہ ، مدھیہ پردیش ، آندھرا پردیش اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں آدی واسیوں کے درمیان کافی مشہور ہے - وہ بتاتے ہیں کہ ان کے اس پلیٹ فارم کا فائدہ کافی لوگ اٹھا رہے ہیں - ان کے مطابق ان کے پاس تقریبا ڈیڑہ سو موبائل پیغامات آتے ہیں جن میں لوگ نہ صرف اپنے مسائل بیان کرتے ہیں بلکہ اپنی پسند ناپسند کا بھی ذکر کرتے ہیں -

image


سی جی نیٹ سور 45 لوگوں کی ایک ٹیم ہے- جو بھوپال میں رہ کر اس سارے کام کی دیکھ بھال کرتی ہے- پوری طرح امداد اور عطیات پر منحصر سی جی نیٹ سور کو شوبھانشیو چودھری اب لوگوں کے لئے عام سطح پر تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ بلو ٹوتھ ریڈیو کی مدد سے عام اور سادہ موبائل سے بھی اسے استعمال کیا جاسکے - اپنے مسائل یا گیت ریکارڈ کرکے لوگوں تک پہنچا سکے - جس کے بعد انہیں انٹرنیٹ ریڈیو کی صورت میں گرام پنچایت تک روانہ کیا جائے جہاں پر براڈ بینڈ کی سہولیات ہوتی ہیں - اس کے بعدگاؤں کا ایک آدمی گرام پنچایت میں آکر اپنے بلو ٹوتھ والے موبائل فون پراس ریڈیو پروگرام کو ڈاونلوڈ کرلیتا ہے- اور اپنے گاؤں واپس آکر اسی پروگرام کو دوسرے موبائل میں بغیر کسی خرچ کے شیئر کرسکتا ہے۔

image


شوبھانشیو چودھری کا کہنا ہے،" اب تک یہاں گاؤں کے مسائل کو اٹھا یا جاتا تھا لیکن اب ان کا منصوبہ کسان ،صحت کے شعبے سے جڑنے کا بھی ہے- تاکہ لوگ ایک دوسرے سے اپنی معلومات شئیر کرسکیں - اس کے علاوہ وہ اپنا ریڈیو اسٹیشن کھولنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں ۔ب شوبھانشیو چودھری اسی لئے جدوجہد کررہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک سماج کے اس طبقے کی آواز پہنچا ئی جاسکے جسے کوئی نہیں سنتا – ان کا مقصد ہی یہ ہے کہ جس آدمی کی بات کوئی نہیں سنتا اس آدمی کو سماجی طاقت مل سکے –



تحریر: ہریش بِشٹ

مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ

Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags