ایڈیشنز
Urdu

تیزاب حملے کی شکار لکشمی کی بیٹی پيهو اپنی ماں کا چہرہ دیکھ کر مسکرا اٹھی

23rd Nov 2015
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share


یہ سوال کافی اہم ہے کہ جن لوگوں کے چہروں پر ایسیڈ ڈال کرانہے بدنما کیا جاتا ہے، وہ بعد میں زندہ رہتے ہیں تو اپنے آس پاس قریبی لوگوں کےستھ کس طرح جئیں۔ خاس طور پر ان متاثرہ خواتین کے معصوم بچے اپنی ماں کا چہرہ دیکھ کر کیا محسوس کرتے ہوںگے؟ یہی سوال ایک متاثرہ لکشمی کا بھی ہے۔

image


لکشمی ایک تیزاب حملے کی زندہ بچنے والے متاثرہ ہیں۔ وہ ایک ٹیلی ویژن کی اینکر اور 'اسٹاپ ایسڈ اٹیک' تحریک کے ذریعے ۰اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے کام کرراہی ہیں۔ مختلف مہمات کا کامیاب آپریشن انہوں نے کیا ہے۔ سال 2005 میں صرف 16 سال کی عمر میں ایک 32 سالہ شخص نے ان پر تیزاب سے اس وقت حملہ کر دیا تھا جب انہوں نے اس کے ایک طرفہ عشق کی تجویز کو ٹھکرا دیا تھا۔

اس حملے کے بعد لکشمی کو ایک سماجی کارکن آلوک دکشت کے ساتھ محبت ہو گئی۔ وہ اپ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ لکشمی اب ماں بن چکی ہیں۔ سات ماہ پہلے انہوں نے ایک بیٹی پيهو کو جنم دیا۔ دینک بھاسکر کو دیئے گئے ایک انٹرویو کی یاد تازہ کرتے ہوئے آلوک بتاتے ہیں کہ لکشمی حمل کے دوران اس بات کو لے کر کافی فکر مند تھیں کہ ان کا ہونے والا بچہ اپنی ماں کو دیکھ کر کہیں ڈر تو نہیں جائے گا، لیکن اب پيهو جب بھی اپنی ماں کو دیکھتی ہے تو وہ ڈرنے کی بجائے مسکراتی ہے۔

image


لکشمی اس سے پہلے بھی تیزاب حملوں کو روکنے کے لئے جنگی پیمانے پر مختلف مہمات کو منظم کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے ملک بھر میں تیزاب کی فروخت پر پابندی لگوانے کی وکالت کرتے ہوئے 27 ہزار لوگوں کے دستخط پر مشتمل ایک درخواست بھی تیار کی تھی جس کی وجہ سے سپریم کورٹ نے مرکز اور تمام ریاستی حکومتوں کو تیزاب کی فروخت کو کنٹرول کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد ہی پارلیمنٹ نے تیزاب حملوں سے متعلق مقدموں کی پیروی کو تیز کرنے کی سمت میں اپنے قدم بڑھائے تھے۔

سال 2014 میں لکشمی کو امریکہ کی خاتون اول مِشل اوباما نے انٹرنیشنل وومین آف كریج ایوارڈ سے نوازا۔ اس کے علاوہ لکشمی کو این ڈی ٹی وی انڈین آف دی ایئر کے ختاب سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

image


لکشمی فی الحال اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں اگلے ماہ شروع ہونے والے اپنے شروذ کیفے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پيهو کا زیادہ تر وقت اسٹاپ ایسڈ اٹیک مہم کے رضاکاروں کے ساتھ گزر جاتا ہے، جن میں سے زیادہ تر خود تیزاب حملوں کے متاثر ہیں۔ اس کی ماں جہاں بھی جاتی ہے وہ اس کے ساتھ ہی جاتی ہے اور شاید اس کے دل میں یہ پتہ ہوگا کہ اس کے والدین اس کی زندگی میں آنے والے سب سے خوبصورت انسان ہیں۔

قلمکار – نشانت گوئَل

مترجم – زلیخہ نظیر

Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags