ایڈیشنز
Urdu

جب سستے جوتوں میں دھوپ کی وجہ سے پیر جلنے لگتے تھے: مرکزی وزیر مہیش شرما کی کہانی

F M Saleem
16th Mar 2016
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share


حکومت ہند میں ثقافتی امور کے وزیر مہیش شرما نے کہا کہ نئے نوجوانوں میں ملک، معاشرے، اور انسانیت کے لئے کچھ کرنے کا احساس موجود ہے اور ہم سب اس احساس کو سلام کرتے ہیں۔

image


وزیر موصوف دہلی میں منعقدہ یور اسٹوری کے بھاشا پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔ انہوں نے کہا۔

''ماں باپ، ٹیچرس اور معاشرہ سب کے ساتھ ایک حسن سلوک کا جزبہ ضروری ہے۔ یہ بات بھی جان لینا چاہئے کہ ہمدردی اور احترام میں فرق ہے۔ ہم سب میں سماج سے لینے کے بجائے کچھ دینے کی خواہش ہونی چا ہئے۔ دینے والوں میں ہمارا نام اس ہو اس سے لگتا ہے کہ خدا نے ہمیں جس کام کے لئے بھیجا ہے، اسے پورا کر رہے ہیں۔ کسی کو کچھ دینے کا جذبہ رکھںا۔ ہمارے وجود کا جشن ہے۔ ''

وزیر نے کہا کہ ایک سال پہلے وہ یور اسٹوری کے ربط میں آئے اور آج کافی کچھ تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یور اسٹوری کی سی ای او شردھا شرما کی باتوں پر خاص توجہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر' ہم' والا جذبہ سب میں تبدیل کر دیں تو 90 فیصد مقصد پورا ہوجائےگا-

مہیش شرما کے مطابق آج ہر جگہ گلاكاٹ مقابلہ ہے۔ لیکن ان حالات میں بھی ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہم کچھ وراثت چھوڑ جائیں۔ وراثت میں كياملا اس سےشناخت نہیں بنتی، بلکہ وراثت میں کچھ چھوڑ جانے سے شناخت بنتی ہیں۔

image


اپنے اسکول کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا،

''گھر سے اسکول کا فاصلہ آٹھ کلومیٹر تھا۔ پیدل آنا جانا پڑتا تھا۔ کڑی دھوپ میں جب واپس ڈیڑھ بجے اسکول آتے تو جوتوں سے پیر جلنے لگتے تھے۔گرم ریت سےبچنے کے لئے ایک پودھے کے پتے اس میں ڈال لیتے۔اسی طرح ایک لمبا دور گزرا۔''

وسائل کے بارے میں ہم باتیں كرتےہیں۔ لیکن معاشرے میں بہت سے لوگ اس کی پرواہ کئے بنا چلتے رہنے کو ہی منزل مان لیتے ہیں اور پھر ان کے قدموں کے نشان راستہ بنا دیتے ہیں۔ ایسا ہی ویژن سماج اور معاشرے کو کچھ دینے کے لئے ہونا چاہئے۔

انہوں نے نئے کاروباریوں سے کہا،

 ''یہاں داخلہ مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں ہے۔ دس سال پہلے میں سیاست سےدوربھاگتا تھا۔ سوچتا تھا سب کچھ کروں گا، لیکن سیاست میں نہیں جاوںگا، لیکن قسمت میں تھا آ گیا.آج مرکز میں وزیر ہوں۔''
image


اس جشن میں ہندوستانی زبانوں میں ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے ولے 13 کاروباریوں نے اپنے تجربات کا بتائے۔ لوگوں نے شاعری اور موسیقی کا بھی بھرپور لطف اٹھایا۔ خصوصاً نرالی اور کارتک کے ماٹیبانی نے خوب داد حاصل کی۔ 

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج   (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں..

ہم میں بہت دم ہے... زبانوں کو مل کر آگے بڑھنے کے لئے شروع ہوا'یور اسٹوری' کا جشن بھاشا

لوکل کے بغیرنہیں ہوں گے گلوبل !...مادری زبان کو چھوڑ کر ترقی بے معنی


Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags