ایڈیشنز
Urdu

ایسڈ حملے سے متاثر افراد کو بہتر زندگی فراہم کرنے کا نام ہے 'شروز هینگٹ آوٹ'

‘شروز هینگٹ آوٹ’ ایک ایسی تنظیم جو ایسڈ اٹیک میں زخمی ہوئی خواتین کی زندگی میں لا رہی ہے روشنی،' آگرہ کے بعد لکھنؤ میں بھی 

27th Apr 2016
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share

زندگی اور امید ایک دوسرے کے مترادف ہیں یا دوسرے الفاظ میں کہیں تو یہ دونوں ایک دوسرے کے اضافی۔ ایک کے بغیر دوسرے کا تصور عدم توازن کو جنم دے گا۔ اب ایسے میں اگر کوئی کسی سے زندگی جینے کی امید چھین لے یا چھیننے کی کوشش کرے تو عدم توازن کو ماپنا مشکل ہی نہیں ایک ناممکن سی بات ہے۔ آج یور اسٹوری میں ہم آپ کو رو برو کرائیں گے ایک ایسی تنظیم اور اس ادارے سے وابستہ لوگوں سے جنہوں نے اپنے جذبے اور ہمت سے اس بات کو اور متاثر کن بنا دیا ہے کہ اگر انسان میں زندگی جینے کی چاہ اور کچھ کر گزرنے کا جنوں ہو تو پھر وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔

image


جی ہاں اس کہانی میں آج ہم جس ادارے کہ بات کر رہے ہیں وہ ایک کیفے ہیں جس کا نام "'شروز هینگٹ آوٹ' رکھا گیا ہے جسے اترپردیش خواتین کی فلاح و بہبود کارپوریشن اور چھاؤں فاؤنڈیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر چلایا جاتا ہے۔

کیا ہے ''شروز هینگٹ آوٹ' "

‘شروز هینگٹ آوٹ’ ایک کیفے ہے جو ہندوستان کے تمام چھوٹے بڑے کیفے سے ملتا جلتا ہے، مگر یہاں ایسی کئی چیزیں ہیں جو اسے دوسرے کیفے سے جدا ہیں جیسے یہاں کا ماحول، اور سب سے خاص یہاں کام کرنے والے لوگ۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اس کیفے میں کام کرنے والے تمام اراکین ایسڈ اٹیک کے بعد نئے سرے سے زندگی گزارنے والے ہیں جنہوں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے، مگر ان میں جینے کی چاہ ہے۔ اس کیفے کا آغاز لکشمی نے کیا تھا، جو خود ایک ایسڈ اٹیک سروائیور ہیں اور جنہوں نے کئی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈ جیتے ہیں۔

image


کیا ہے اس کیفے کا مقصد

اس سوال کے پوچھے جانے پر کیفے کی، منتظم وسانی بتاتی ہیں،

"پی پی پی ماڈل کے تحت اس کیفے کا آغاز سے پہلے آگرہ اور پھر لکھنؤ میں ہوا، جہاں آج اس کیفے کو لکھنؤ کے نوجوانوں کی طرف سے ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔ لکھنؤ میں اس کیفے کو شروع کرنے میں ابتدائی دور میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب ایک عجیب سے خوف اور گھبراہٹ کے سبب یہاں کام کرنے والی خواتین بولنے تک کو تیار نہیں ہوتی تھی۔ پر ادارے کی طرف سے مشاورت کے ذریعہ مسلسل یہ کوشش کی جاتی ہے کہ یہ خواتین خودمکتفی بن کر کامیابی کے نئے طول و عرض کو پا سکیں۔ "
image


ان لڑکیوں کے موضوع اور آگے کے ہدف کے سلسلے میں وسانی نے بتایا کہ آگرہ اور لکھنؤ کے بعد ادارہ دہلی اور اودےپور میں بھی کیفے کھول کر ان خواتین اور لڑکیوں کی مدد کرے گا جو ایسڈ اٹیک میں زخمی ہوئی ہیں۔ اپنے ادارے کے کام کاج پ پر بات چیت کرتے ہوئے وسانی کہتی ہیں،

"چونکہ اب لوگوں اور متاثرہ خاندانوں سے کوئی مدد نہیں مل رہی، لہذا ہم خود ہی الگ - مختلف تھانوں اور کوتوالی میں جا کر ایسے معاملات کا پتہ لگاتے ہیں اور متاثرہ خاتون کو ضروری مدد مہیا کراتے ہیں۔"
image


وسانی نے یہ بھی بتایا کہ یہاں اسیڈ حملے کی شکار خواتین کو کیفے میں کام ہی نہیں کرایا جا رہا بلکہ ادارے کی طرف سے ان کے زندگی کے مقاصد کو پورے کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ بھی پورے کئے جائیں گے۔ ادارے میں کام کر رہیں خواتین جیسے پیشے سے کپڑے ڈیزائنر روپا کے لئے آگرہ کیفے میں ایک دکان، سونیا کے لئے دہلی میں ایک سیلون اور ڈالی کو کلاسیکی رقص کے لئے آگے بڑھا جا رہا ہے۔ غور طلب ہے کہ کیفے میں ہریانہ کی روپا، فرخ آباد کی فرح، الہ آباد کی سودھا، کانپور کی ریشما، اڑیسہ کی رانی کام کر رہی ہیں جن کا مقصد زندگی میں آگے بڑھنا ہے۔

قلمکار: بللا جعفری

مترجم : زلیخا نظیر

.............

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

کشمیر میں مجتبیٰ اور علی کے ریسٹورنٹ 'گوڈ فلاز' میں فوڈ کے ساتھ ساتھ آرٹ اور انٹرٹینمنٹ بھی

’پڑھیں گی تبھی تو بڑھیں گی لڑکیاں‘ ...اس فکر کوحقیقت میں بدل رہا ہے ایک نوجوان

مہاتما گاندھی کی یادیں، باتیں اور.... پوتی سمترا گاندھی کلکرنی

Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags