ایڈیشنز
Urdu

حیدرآباد کے بلدی انتخابات میں مینجمنٹ گرو شکوراحمد نبھائیں گے اہم رول

F M Saleem
26th Dec 2015
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share

شکور احمد نے عثمانیہ یونیورسٹی سے سائنس میں ڈگری حاصل کی ہے

ٹیکنالوجسٹ، سماجی کارکن، سِوِک لیڈر، مینٹر، انتخابی کامپین مینیجر، جیسے شخصیت کی کئی پہلو

myghmc app سے کرینگے الکشن مینگمینٹ

امریکہ میں ایک آئی ٹی کمپنی کے مالک ہیں

امریکہ میں رہنے والے حیدرآبادی آئی ٹی مینجمنٹ گرو شکور احمد اس بار گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں اپنا اہم رول نھبانے حیدرآباد آ رہے ہیں۔ وی ایمپاور کے سی ای او ار اسٹیٹ ڈیموکریسی کے بانی شکور احمد نے گزشتہ انتخابات میں آم آدمی پارٹی کے لئے اور اس سے قبل امریکہ اوباما کے لئے بھی انتخابی مہم کا نظام اپنے ہاتھ لیا تھا۔

image


یور اسٹوری سے بات چیت کے دوران شکور نے بتایا کو اس بار ان کی نظر ان کے اپنے آبائی وطن حیدرآباد پر ہے۔ وہ اپنی ٹیم کے تین اور اراکین کے ساتھ بہت جلد حیدرآباد آ رہے ہیں، بس انتظار ہے، انتخابات کے اعلان کا۔

شکور احمد نے عثمانیہ یونیورسٹی سے سائنس میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعلٰی تعلیم کی غرض سے امریکہ کا رخ کیا تھا۔ یہاں سے انہوں نے کمپیوٹر انفرمیشن سسٹم میں بی ایس، پبلک پالیسی میں ماسٹر ایم پی پی کا امتحان کامیاب کیا اور میری لینڈ یونیورسٹی سے اینٹرپرینیورشپ کی فیلوشپ حاصل کی۔
image


ٹراویل اجنٹ سے اپنی زندگی کی شروعات کرنے والے شکور نے بین الاقوامی ائر ٹیرف ایکسپرٹ کے طور پرکام کیا اور پھر آج کئ غیر سرکار اور پیشہ ورانہ اداروں سے جڑے ہوئے ہیں۔

ٹیکنالوجسٹ، سماجی کارکن، سِوِک لیڈر، مینٹر، انتخابی کامپین مینیجر، جیسے کئی پہلوؤں اپنی شخصیت کو روشناص کروایا ہے۔ حیدرآباد کی موجودہ انتخابی صورت حال سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ وہ اس تعلق سے بتاتے ہیں، ''بلدیہ کے انتخابات پوری طرح سے مقامی موضوعات پر ہونے چاہیئے، لیکن اس میں پارٹیوں کا عمل دخل ذیادہ ہے۔ انتخابات کی پلانینگ جس طرح سے ہونی چاہئے، نہیں ہے۔ ان حالات میں، سوجھ بوجھ رکھنے والے اچھے امیدوار منصوبہ بند طریقے سے عوام تک پہنچتے ہیں، تو ان کی کامبابی کا امکانات ہیں۔''
image


حیدرآباد بلدیہ کے انتخابات کا اس بار کا رخ ماضی کے انتخابات سے پوری طرح مختلف ہے۔ 2009 میں جس ٹی آر ایس پارٹی کا ایک بھی کارپوریَٹر نہیں تھا، آج وہ پارٹی میئِر کے عہدے کی دعویدار ہے۔ مجلس جس نے گرشتہ بار کانگریس کے ساتھ مل کر میئر کی سیٹ پر حصہ داری کی تھی، اس کی اپنی بھی کچھ امیدیں ہیں۔ ان حالات میں شکور کا ماننا ہے کہ وہ ان انتخابات کے لئے ایک ایپ تیار کر چکے ہیں۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں، ''جی ایچ ایم سی میں 150 کارپوریٹروں کے لئے انتخاب ہونا ہے، لیکن ابھی تک کسی بھی پارٹی کے پاس اطمنان بخش، ایماندار، محنتی اورعوام کے تئیں زمہ دار افراد کی کوئی فہرست نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے تو وہ ٹی آر ایس کے لیڈر کے۔ چندراشیکھر راو اور مجلیس کے لیڈر اسدالدین اویسی کے ہی نام کا پرچم ہے۔ اس سے آگے یقینی حالت صفر ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ پڑھے لکھے لوگ انتخبات میں کھڑے ہونے اور عوام کے لئے ایماندرانہ کوششیں کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ان میں کچھ ڈاکٹر،کچھ انجینئر، کچھ اکاونٹینٹ اور دیگر شعبوں کے تجربےکار لوگ منتخب ہوں۔ ایسے لوگ جنہیں ان وارڈوں کے مسائل کے مکمل معلومات حاصل ہوں۔''

image


شکور احمد اپنے کارناموں کے لئے درجنوں اداروں سے ایورڈ حاصل کر چکے ہیں۔ ہندوستان میں پارلیامنٹ انتخابات میں بھی کچھ امیدواروں کو اپنی سروس د ے چکے ہیں۔ آخر وہ حیدرآباد میں کیا کریں گے ؟ اس سوال کے جواب میں شکور احمد بتاتے ہیں، ''سیاسی پارٹیوں کے پاس پہلے تو صحیح امیدواروں کی کمی ہے اور امیدواروں کے پاس حکمت عملی کی کمی ہے۔ان کی ٹیم ایماندار اور قابل امیدواروں کا انتخاب کر ان کی پوری انتخابی مہم کا پروگرام بنائے گی اور متعلقہ وارڈ کی مکمل معلوماف فراہم کرے گی۔ امیدوار کے حق کتنے اووٹ گر سکتے ہیں اور کتنے اووٹروں کو امیدوار کی جانب سے مثبت رخ کروایا جا سکتا ہے، اس کا پورا منصوبہ بنایا جائےگا۔ ان کے ایپ میں گھر گھر کی معلومات ہوگی، تاکہ امیدوار کو گھر گھر پہنچ کر مہم چلائی جا سکے۔ اس طرح کا انتظام پہلے کبھی بلدیہ کے انتخابات میں نہیں ہوا ہے۔''

image


شکور احمد حیدرآبادکے ایک اوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن آج امریکہ میں ایک آئی ٹی کمپنی کے مالک ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سیاست میں ساف سوتھرے کردار کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہے۔ اس کے لئے وہ اپنا ویژن لے کر حیدرآباد آ رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ اپنے اس منصوبے کے ساتھ کم سے کم 20 سے 30 امیدواروں کو اپنی مہارت کا فائدہ پہنچا سکیں۔ چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں، یا آزاد امیدوار ہوں۔ اس طرح سے وہ حیدرآبادی عوام کو بھی کچھ دے پائں گے۔

Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags

Latest Stories

ہمارے روزنامہ نیوزlettٹر کے لئے سائن اپ کریں