ایڈیشنز
Urdu

کاربائكس اور سائیکلوں کے سیلف ڈرائیو کا مرکز ڈریون حیدرآباد سے شروع

نوری ٹراولس اور 4 وہیلس کا نیا اسٹارٹپ   جلد ہی  ملک کے سبھی بڑے شہروں میں

21st Apr 2016
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share


آپ کو اس شہر میں صرف کچھ گھنٹوں یا کچھ دنوں کے لئے رہنا ہے۔ گھومنے پھرنے کے لئے آپ پبلک ٹرانسپورٹ یا ٹیکسی کے بجائے سیلف ڈرائیو کار پسند کرتے ہیں، لیکن کچھ دن کے لئے اپنی کار خریدنا عقلمندی نہیں ہوگی۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی آپ کو اچھی سے اچھی اپنی پسند کی کار اتنی مدت کے لئے مہیا کرائَے۔ کیوں نہیں، اگر آپ حیدرآباد میں ہیں تو ایسا ہو سکتا ہے۔

کرار احمد  اور اشون جین

کرار احمد  اور اشون جین


حیدرآباد کی ترقی کو نئی بلندیاں بخشنے والے گچی باولی کے فائنیشل ڈسٹركٹ میں ملک کا پہلا کیفے کھلا ہے، جہاں ہمہ ا قسام کی کاریں، بائكس اور سائیکلوں کی خود ڈرائیو سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے- `ڈريون بائی یو 'اپنے نام کی طرح ہی ہے، چاہے وہ عام استعمال کی کار ہو یا لکژری آرامدہ کاریں، یہاں 299 روپے سے لے کر 59 ہزور روپے تک خود ڈرائیو کے لئے کرایہ پر لی جا سکتی ہیں اور اس دوران کافی کی چسكيوں بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

انڈین بزنیس اسکول کی سڑک پر اس نئی ڈريون کیفے کا سب سے بڑی پرکشش بات یہ ہے کہ یہاں نینو سے لے کر پورشچے 911 تک 150 کاریں اور ہونڈا سے ٹرائفوراکٹ ۱۱۱ تک کئی کمپنیوں کی 50 باكس اور 7 بائساكلے کیفے میں موجود ہیں۔ ڈريون حیدرآباد کا پہلا ایسا اسٹارٹپ ہے، جسے شہر کی تاریخ میں ٹراویلس کا کاروبار کرنے والے دو خاندانوں نوری ٹراویلس اور 4 وہیل ٹراویلس کی نوجوان نسل نے مل کر شروع کیا ہے۔ اس کے پرموٹرس میں کرار احمد طاہر، اشون جین، ایس ایم جین، نبیل حسین اور متین حسین شامل ہیں۔
image


اشون جین نے ایور اسٹوری کو بتایا کہ خود ڈرائیو لئے کرایہ کی گاڈيو کے کاروبار میں بے پناہ امکانات ہیں۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے اس کیفے کی شروعات کی ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ گاڑی گیراج میں ہے یا پھر بیچ دی ہے اور نئی گاڑی خریدنے کے لئے دو چار دن لگ جائیں گے یا نئی گاڑی کیسی ہوگی اس کا اندازہ نہیں ہے۔ ان سب سوالوں کے جواب ڈريون میں دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دو چار دن کے لئے اگر کوئی گاڑی چاہئے تو اسے خریدنے کے بجائے خود ڈرائیونگ کے لئے کرایہ پر لے لینا بہتر ہوگا۔ ڈريون نے وقت اور ضرورت کے مطابق مختلف طرح کے پیکیج بنائے ہیں، جس کے مطابق، 8 یا 24 گھنٹے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ سامنے والے کی ضرورت، پسند اور نئے تجربے کے ساتھ ساتھ بہت سے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

کرار طاہر کا خیال ہے کہ حیدرآباد میں بہت چھوٹے پیمانے پر نوری ٹراویلس نے اس کی ابتدا کی تھی اور4 وهيلس بھی یہ کام کر رہا تھا، لیکن ایک بڑے كینویس پر ابھر کر سامنے آئے کے لئے مشترکہ طور پر یہ سٹارٹپ شروع کیا گیا اور امید ہے کہ آیندہ تین سال میں مختلف شہروں میں اس کی شاخیں قائم کی جائیں گی اور تین ہزار کاروں اور 1500 باكس کا بیڑا اس کاروبار سے منسلک کیا جائے گا۔

image


کرار بتاتے ہیں کہ

ملک کے بڑے اور شہروں میں اس کاوربار کی ابھی شروعات ہی نہیں ہوئی ہے۔ ان کا اسٹارٹپ پہلے مرحلے میں حیدرآباد کے بعد چنئی، بنگلور، گوا، نئی دہلی، ممبئی، پونے، چندیگڑھ، جےپور اور اودےپور جیسے مقامات پر اپنی شاخیں قائم کرےگا اور بعد میں کولکتہ بھونیشور، ناگپور، لکھنؤ اور شملہ جیسے شہروں میں پہنچا جائےگا۔

نبیل ٹراویلس کی دنیا میں تین دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ یہ نیا کاروبار کئی معنوں میں گاہک اور تاجر دونوں کے لئے فائدہ بخش ہوگا۔ جن کو مہنگی کاریں اور بائک کا شوق ہے، لیکن کچھ دیر اس کو چلا کر دیکھنا چاہتے ہیں یاپھر اپنے دوستوں رشتہ داروں کے ساتھ کہیں جانا چاہتے ہیں، ان کے لئے یہ اسٹارٹپ کافی دلچست سہولتیں فراہم کرے گا۔

image


اشون جین کے مطابق ڈریون پک اپ سروس بھی دیگا۔ لوگ ایرپورٹ یا کسی اور مقام سے بھی اپنے لئَے کار منگا سکتے ہیں۔ 

..............................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔

حیدرآبادی چٹانوں کے زریعہ شعور بیدار کرتی آونی راؤ کی انسٹالیشنس

اپنا تو پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے... آرٹ کو عام لوگوں تک پہنچاتا ایک جوڑا

Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags