ایڈیشنز
Urdu

گنّے کی کاشت میں انقلاب ...گیارہویں پاس کسان کا کمال

ZULAIKHA NAZEER
13th Nov 2015
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share

بنائی گنے کی قلم کاری کی مشین

دنیا کے دوسرے ممالک اپنا رہیں ہیں یہی ٹیکنالوجی

image


وہ کسان ہیں، لیکن لوگ انہیں انوویٹر کے طور پر جانتے ہیں، وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، لیکن انہوں نے ایک ایسی ایجاد کی ہے، جس کا فائدہ آج دنیا بھر کے کسان اٹھا رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے نرسینه پور ضلع کے میکھ گاؤں میں رہنے والے روشن لال وشوکرما نے نئے طریقہ سے گنے کی کاشت شروع کی اور اس کے اخراجات کو کم کرنے و پیداوار میں اضافہ کرنے کا کام کیا، اس کے بعد ایسی مشین ایجاد کی جس کا استعمال گنے کی 'قلم' بنانے کے لئے آج ملک میں ہی نہیں دنیا کے دوسرے ممالک میں کیا جا رہا ہے۔

روشن لال وشوکرما نے گيارہویں جماعت تک کی تعلیم حاصل کی ہے۔ خاندان زراعت سے تعاق رکھتا ہے۔ لہذا وہ بھی اسی کام میں لگ گئے۔ کاشتکاری کے دوران انہوں نے دیکھا کہ گنّے کی کاشت میں زیادہ منافع ہے۔ لیکن کسانوں کو گنے لگانے میں کافی لاگت آتی تھی تو بڑے کسان ہی اپنے کھیتوں میں گنے کی فصل اگاتے تھے۔ روشن لال نے ٹھان لیا کہ وہ بھی اپنے دو تین ایکڑ کھیت میں گنّے کی کاشت کریں گے اس کے لئے انہوں نے نئے طریقے سے گنّا لگانے کا فیصلہ لیا۔ روشن لال کا کہنا ہے کہ "میرے ذہن میں خیال آیا کہ جیسے کھیت میں آلو لگاتے ہیں تو کیوں نہ اسی چھڑی کے ٹکڑے ٹکڑے لگا کر دیکھا جائے۔" ان کی یہ ترکیب کام آ گئی اور ایسا انہوں نے مسلسل 2 سال کیا۔ اس سے کافی اچھے نتائج سامنے آئے۔ اس طرح انہوں نے کم قیمت میں نہ صرف گنّے کی قلم کو تیار کیا بلکہ گنے کی پیداوار عام پیداوار کے مقابلے 20 فیصد تک زیادہ ہوئی۔ اتنا ہی نہیں اب تک 1 ایکڑ کھیت میں 35 سے 40 کوئنٹل چھڑی'گنے کی قلم لگانا پڑتا تھا اور اس کے لئے کسان کو 10 سے 12 ہزار روپے تک خرچ کرنے پڑتے تھے۔ ایسے میں چھوٹا کسان چھڑی نہیں لگا پاتا تھا۔ لیکن روشن لال کی نئی ترکیب سے 1 ایکڑ کھیت میں صرف 3 سے 4 کوئنٹل گنّے کی قلم لگا کر اچھی فصل حاصل ہونے لگی۔

image


اس طرح نہ صرف چھوٹے کسان بھی چھڑی لگا سکتے تھے بلکہ اس کے بہت سے دوسرے فوائد بھی نظر آنے لگے۔ جیسے کسان کا ٹرانسپورٹیشن کا خرچ بہت کم ہو گیا تھا کیونکہ اب 35 سے 40 کوئنٹل چھڑی کھیت تک ٹریکٹر ٹرالی میں لانے لے جانے کا خرچہ بچ گیا تھا۔ اس کے علاوہ گنے کا بیج علاج بھی آسان اور سستا ہو گیا تھا۔ آہستہ آہستہ ارد گرد کے لوگ بھی اسی طریقہ سے چھڑی لگانے لگے۔ جس کے بعد اب دوسری ریاستوں میں بھی اس طریقہ سے چھڑی لگایا جا رہا ہے۔

روشن لال رکے نہیں، انہوں نے دیکھا کہ ہاتھ سے گنے کی قلم بنانے کا کام کافی مشکل ہے لہذا انہوں نے ایسی مشین کے بارے میں سوچا جس سے یہ کام آسان ہو جائے۔ اس کے لئے انہوں نے زراعت کے ماہرین اور زرعی سائنس سینٹر سے مشورہ بھی لیا۔ یہ خود ہی لوکل ورکشاپ اور ٹول پھیكٹريز میں جاتے اور مشین بنانے کے لئے معلومات حاصل کرنے لگے۔ آخر کار وہ 'شگركین بڈ چپر' مشین ایجاد کرنے میں کامیاب ہوئے۔ سب سے پہلے انہوں نے ہاتھ سے چلانے والی مشین تیار کی۔ اس کا وزن صرف ساڑھے تین کلو گرام ہے اور اس سے ایک گھنٹے میں 3 سو سے 4 سو گنے کی قلم بنائی جا سکتی ہیں۔ آہستہ آہستہ اس مشین میں بھی بہتری آتی گئی اور انہونے ہاتھ کی جگہ پاؤں سے چلنے والی مشین بنانی شروع کی۔ جو ایک گھنٹے میں 8 سو گنے کی قلم بنا سکتی ہے۔ آج ان کی بنائی مشینیں مدھیہ پردیش میں تو فروخت ہو ہی رہی ہیں اس کے علاوہ یہ مہاراشٹر، یوپی، اڑیسہ، کرناٹک، ہریانہ اور دوسری کئی ریاستوں میں بھی فروخت ہو رہی ہے۔ ان کی مشین کی ڈیمانڈ نہ صرف ملک میں بلکہ افریقہ کے بہت سے ممالک میں بھی خوب ہے۔ آج روشن لال کی بنائی مشین کے مختلف ماڈل کی قیمت 15 سو روپے سے شروع ہوتی ہے۔

image


ادھر روشن لال کی بانئی مشین کسانوں کے درمیان مشہور ہو رہی تھی تو دوسری طرف بہت سے شوگر فیکٹری اور بڑے فارم ہاؤس بھی ان بجلی سے چلنے والی مشین بنانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے بجلی سے چلنے والی مشین بنائی جو ایک گھنٹے میں دو ہزار سے زیادہ گنے کی قلم بنا سکتی ہے۔ اب اس مشین کا استعمال گنے کی نرسری بنانے میں ہونے لگا ہے۔ اس وجہ سے بہت سے لوگوں کو روزگار بھی ملنے لگا ہے۔

دھن کے پکے روشن لال نے ایسی مشین تیار کیا ہے، جس کا استعمال گنے کی فصل بونے کے لِئے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مشین کو ٹریکٹر کے ساتھ جوڑ کر دو تین گھنٹے میں ایک ایکڑ کھیت میں گنے کی فصل بوِئی جا سکتی ہے۔ جہاں پہلے اس کام کے لئے نہ صرف کافی وقت لگتا تھا بلکہ کافی تعداد میں مزدوروں کی ضرورت بھی پڑتی تھی۔ یہ مشین مخصوص فاصلے پر گنے بونے کا کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کھاد بھی اسی مشین کے ذریعے کھیت تک پہنچ جاتی ہے۔ روشن لال نے اس مشین کی قیمت 1 لاکھ 20 ہزار روپے مقرر کی ہے۔ اس کے بعد بعد مختلف زرعی سائنس سینٹر اور شوگر ملس نے اس مشین کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس مشین کے پیٹنٹ کے لئے درخواست داخل کی ہے۔ ان کامیابیوں کے بدولت روشن لال کونہ صرف مختلف ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے، بلکہ کاشت کے شعبے میں بہتر ایجادات کے لئے انہیں قومی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags