ایڈیشنز
Urdu

غریب بچوں کو تعلیم کے ذریعے ان کی 'پہچان' دلانے میں مصروف کچھ نوجوان

22nd Nov 2015
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share

ایک رضاکارگروپ ہے 'پہچان' جسکا آغاز مئی 2015 میں ہوا ......

دہلی کے ایک بڑے سلم علاقے میں کام کر رہا ہے پہچان .....

15سے زیادہ نوجوان مل کر غریب بچوں کو کر رہے ہیں تعلیم یافتہ.....

کہتے ہیں کہ کسی بھی کام کو کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے جذبہ، جنون اور مضبوط قوت ارادی - اگر کسی بھی شخص یا ادارے کے پاس یہ تین چیزیں ہوں تو اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور کوئی بھی پریشانی انکی پروازمیں رکاوٹ نہیں بن سکتی- ایسے ہی جذبے، جنون اور قوت ارادی کے ساتھ دہلی میں غریب بچوں کے لئے ایک گروپ کام کر رہا ہے ، اس کا نام ہے "پہچان "-

image


پہچان کا آغاز 4 دوستوں كوشكا سکسینہ، مانك، ونايك ترویدی اور آکاش ٹنڈن نے مل کر مئی 2015 میں کیا اور صرف 6 ماہ سے بھی کم وقت میں اس گروپ سے تقریبا 15 نوجوان جڑ چکے ہیں جو اپنے سطح پر غریب اور سلم علاقوں میں رہنے والے بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کر رہے ہیں- گروپ سے منسلک نوجوانوں کی عمر 22 سے 27 سال کے درمیان ہے ان میں سے کچھ طالب علم ہیں تو کچھ نوکری پیشہ-

آکاش ٹنڈن بتاتے ہیں،" ایسا ہی ایک گروپ ممبئی میں تھا جس کی قیادت افسانہ کر رہی تھیں - جب مجھے ممبئی کے اس گروپ کے بارے میں پتہ چلا تو مجھے ان سے ترغیب ملی اور اسی وقت میں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کچھ ایسا ہی کام کریں- میں نے یہ خیال اپنے دوستوں پر ظاہر کیا اور سب کو کافی پسند بھی آیا، پھر ہم نے اپنا کام بانٹ لیا اور ریسرچ کرنی شروع کی- " کافی تحقیق کے بعد ان لوگوں نے طے کیا کہ وہ دہلی کےآ ئی پی (P.I) ڈپو کے پیچھے کے سلم ایریا میں اپنا کام شرو ع کریں گے - اس جگہ کے انتخاب کے پیچھے بچوں کو پڑھانے کے علاوہ ایک پیغام بھی دینا تھا اور وہ یہ تھا کہ آ ئی ٹی او میں ملک کے کئی اہم وزارتوں کے دفتر ہیں لیکن اس کے کافی قریب اتنا بڑا سلم ایریا ہے جہاں کافی گندگی ہے اور بچے بنیادی سہولتو ں سے محروم ہیں تو آخر کیوں کسی کا یہاں پر دھیان نہیں جاتا-

image


مئی 2015 میں گروپ نے اپنا کام شروع کیا- یہ لوگوں کے پاس گئےاور ان سے کہا کہ وہ ان کے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں- آغاز میں ان لوگوں کو ان کے کام میں کافی دقت آتی تھی کیونکہ بچے پڑھائی میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے لیکن ان لوگوں نے بھی ہار نہیں مانی - یہ بچوں کا پڑھائی کی طرف توجہ مرکوز کرنے کے لئے انہیں ٹافی دیتے جو بچہ زیادہ نمبر لاتا اس کو الگ سے ٹافی ملتی ایسا کرکے یہ بچوں میں ایک ہیلدی کا مپٹیشن پیدا کرنے میں کامیاب رہے اور آہستہ آہستہ ان کا کارواں بڑھنے لگا- پہلے چند بچے ہی ان کے پاس آتے تھے لیکن رفتہ –رفتہ تعداد بڑھتی چلی گئی- ساتھ ہی جب پہچان گروپ نے اپنے کام کو فیس بک کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا شروع کیا تو اور نوجوان جو سماجی کام کرنا چاہتے تھے وہ ان سے جڑنے لگے-

image


آکاش بتاتے ہیں کہ وہ بچوں کو صرف بنیادی تعلیم دیتے ہیں کوئی کورس نہیں پڑھاتے جیسے کئی بار انہوں نے دیکھا ہے کہ 7 ویں کلاس کے بچے ضرب کے آسان سوال بھی نہیں کر پا رہےتھے کیونکہ انہیں 20 سے اوپر کی گنتی نہیں آتی تھی- وہ بچے بس صرف رٹ کر امتحان میں چلے جاتے ہیں- ایسے میں بچوں کے لئے ضروری تھا کہ انہیں بنیادی تعلیم ملے جس کے سہارے وہ آگے بڑھیں اور اپنی زندگی کو بہتر بنائیں -

آکاش اس کام کو گروپ میں رہ کر ہی کرنا چاہتے ہیں وہ این جی او کے طور پر کام نہیں کرنا چاہتے ، وہ بتاتے ہیں کہ ہم سب کا مقصد اس کام سے پیسہ کمانا نہیں ہے نہ ہی کوئی کاروبار کرنا بلکہ ہم لوگ غریب بچوں کو پڑھاكر ملک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، لیکن اگر وہ پہچان کو بطور این جی او رجسٹر کروائیں گے تو انہیں فنڈ ملنے لگے گا جس کی انہیں ضرورت نہیں ہے- یہ لوگ تھوڑے بہت پیسے جوڑ کر بچوں کے لئے اسٹیشنری کا انتظام کرتے ہیں-

image


پہچان گروپ ہفتہ اور اتوار کو بچوں کی كلاسیز لیتا ہے- پہلے جہاں بچے کافی مشکل سے آتے تھے وہیں اب بڑے جوش و خروش کے ساتھ آتے ہیں- وہ سب کے سب ان لوگوں کے پہنچنے سے پہلے ہی جمع ہو جاتے ہیں - اس کے علاوہ بچوں کے رویے میں بھی کافی مثبت تبدیلی نظر آنے لگی ہے -پہلے جو بچے پڑھائی سے دور بھاگتے تھے وہ اب نئی چیزیں سیکھ رہے ہیں- تعلیم کی طرف ان کی توجہ بیدار ہونے لگی ہے اور وہ گروپ کے اساتذہ کو خود بتانے لگے ہیں کہ آج ان کا کیا پڑھنے کا من ہے- یہ سب باتیں چھوٹی ہو سکتی ہیں لیکن انکے معنی کافی بڑے ہیں ا ور یہ ایک مثبت تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہی ہے -

image


جماعت سے ہی منسلک ایک رضاکار سربھی بتاتی ہیں کہ "تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز ہے اگر کسی بھی ملک کے بچے تعلیم یافتہ ہوں گے تو وہ ملک کافی ترقی کرے گا اور ایک سپر پاور کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا ایسے میں سب کو چاہئے کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لئے کام کریں کم از کم ایک بچے کو تعلیم یافتہ کریں اور ملک کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں-

قلمکار۔ ۔ آشوتوش کھنٹوال

مترجم ۔ ۔ سہیل اختر

Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags