ایڈیشنز
Urdu

کاروبار کے لئے بھی خواتین لے سکتی ہیں قومی کمیشن سے مدد

10th Mar 2016
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share


قومی کمیشن برائے خواتین کی صدر مسز للتا كمارمنگلم نے خوتین کے لئے بے حد ترغیبی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا، ''خواتین کو اپنے بارے میں دنیا کو بتانا ہوگا۔ خود اپنے بارے میں بھی انہیں آواز اٹھانے کی سخت ضرورت ہے۔ اگر خواتین ایسا کرنے لگیں گی تو انہیں تجارت اور کاروبار کرکے اپنے پیروں پر کھڑاہونے کے لئے پیسے بھی ملنے لگیں گے۔ ضرورت ہے کہ خواتین سرکاری پروگرام کے بارے معلومات حاصل کریں۔ ان منصوبوں کا استعمال کس طرح سے کیا جا سکتا ہے اس کے بارے میں جانیں۔ آج کی تاریخ میں مواقع کی کوئی کمی نہیں ہے۔ "

image


قومی کمیشن برائے خواتین کی صدر مسز للتا كمارمنگلم کا ماننا ہے کہ تجارت میں خوتین کی شراکت داری بڑھانی ہوگی۔ عالمی یوم خواتین کے موقع پر قومی خواتین کمیشن اور يوراسٹوری کی جانب سے منعقدہ مشترکہ پروگرام 'شکتی' میں انہوں نے تسلیم کیا کہ خواتین میں خود انحصاری کے بارے میں پہلے سے زیادہ بیداری آئی ہے پر اب بھی بہت کام کرنا ضروری ہے۔ للتا كمارمنگلم نے کہا،

"ملک کی خواتین کو بزنس میں اپنی شراکت داری میں اضافہ ہوگا۔ ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے خواتین کو سامنے آنا ہوگا اور اس میں خود کو شامل کرنا پڑے گا۔ اگر ایسا ہونے لگے گا تو یقینی طور پرآیندہ پانچ سال میں ملک میں خواتین کی صورت حال کافی مختلف ہو گی۔ "
image


للتا كمارمنگلم نے اپنے پرانے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر والوں نے کبھی بھی ان کی حدیں طے نہیں کی۔ گھر میں ان کے لئے کوئی حد نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہی حالت ملک کی ہر عورت کا ہونا چاہئے۔ انہوں نےاظہار خیال کیا کہ خواتین عام طور پر نرم طبیت کی ہوتی ہیں۔ لیکن یہ ہچکچاہٹ اصل میں خواتین کے لئے نقصان دہ ہے۔ للتا كمارمنگلم نے کہا،

"خواتین کو اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اس کے لیے آواز اٹھانی ہوگی۔ اور اگر ایسا کرنے لگیں گی عورتیں تو پھر ان کے پاس کام ہوگا۔ وہ دنیا کی قیادت کر رہی ہوں گی۔"
image


یہی وجہ ہے کہ قومی کمیشن خواتین کی بہتری کے لئے کوشاں ہے۔ پروگرام میں تقریبا 500 خواتین اسٹارٹپ کے لئے تیاری میں مصروف خواتین سے خطاب میں مسز كمارمنگلم نے صاف صاف کہا،

" قومی کمیشن برائے خواتین کا کام ہے خواتین کو حمایت کرنا ہے۔ ان پر ہو رہے ظلم کو ختم کرنا تو ہمارا بنیادی کام ہے ، لیکن اب اسی کی اگلی کڑی ہے اسٹآرٹپ انڈیا اور میک ان انڈیا، اس میں مکمل طور پر شراکت داری بڑھانا ہوگا تاکہ خواتین کی حالت بہتر ہو سکے اور دیگر خواتین کے لئے مثال بن سکیں۔ "

ضروری نہیں ہے کہ خواتین آفس کھول کر ہی اپنا اسٹارٹپ شروع کریں۔ وہ گھر سے بھی کام کر سکتی ہیں۔ گھر سے کام کرنے والی عورت اسٹاٹپ کی تعداد ابھی بہت زیادہ نہیں ہے۔ پر کہتے ہیں کہ ہر اچھے کام کا آغاز ایک چھوٹے اقدام سے ہی ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے گزشتہ سال 15 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اسٹینڈ اپ انڈیا کے تحت خواتین کو اور مضبوط کرنے کے بارے میں اپنے منصوبے کا اظہار کیا تھا۔

Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags