ایڈیشنز
Urdu

2020 تک 4000 کروڑ کا ہوگا منظم چائے کاکاروبار

F M Saleem
30th Jan 2016
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share

چائے ہندوستانیوں کی زندگی کا حصہ ہے۔ ہر شہر اور ہر گاؤں میں چائے مختلف طرح سے پیش کی جاتی ہے۔ اعلی طبقے میں جہاں انگریزی انداز میں بغیر دودھ کی چائے پی کر صحت بنانے کی سوچ ہے، تو غریب اور درمیانے طبقے کے لوگ دودھ کے ساتھ والی چائے کی چسكيو میں اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے اعتبار سے خوش ہوتے ہے۔

image


چھوٹی، بڑی غیر منظم ہوٹلوں اور چائےخانوں کو چھوڑ دیں، تو صرف منظم چائے اور کافی کا موجودہ کاروبار 2000 کروڑ روپے کا ہے جو 2020 تک بڑھ کر 4000 کروڑ تک پہنچ جائے گا۔ اس طرح کا اظہار خیال ٹی ٹریل کے بانی شریک اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سنجیو ایس پوٹی نے کیا۔

 یور اسٹوری سے بات چیت کے دوران سنجيو نے کہا کہ 2013 میں انہوں نے چائے کے کاروبار میں قدم رکھا تھا۔ اب تک 1 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اس میں کی گئی ہے۔ اب تک ان کا ٹی ٹریلس کیفے ممبئی تک محدود تھا۔ ممبئ میں اب تک 9 کیفے قائم کئے گئے ہیں، لیکن حیدرآباد میں نئی شاخ کے قیام کے ساتھ ہی بینگلور، دہلی، چنئی اور دیگر شہروں میں بھی توسیع کے ،منصوبے پر عمل ہو رہا ہے۔ آئندہ 5 سال میں کمپنی کی کیفے کی تعداد 500 تک پہنچائی جائے گی، جن کی ذاتی اورفرینچائسی دونوں قسم کے ماڈيول ہوں گے۔ ان میں سے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں 45 کیفے کی تجویز ہے۔

image


ایک سوال کے جواب میں سنجیو نے کہا کہ چائے کے کاروبار میں قدم رکھنے سے پہلے 1 سال سے زیادہ وقت تک 2000 طرح کی چائے کے نمونوں کا ٹیسٹ کیا گیا، جس میں سے 100 بہترین نمونوں کو مینو میں شامل کیا گیا ہے۔

ملک میں چائے کے کاروبار کے بارے میں سنجیو نے کہا کہ فی الحال منظم کیفے کی تعداد 3200 ہے، جو آئندہ پانچ سالوں میں 6000 تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں جہاں کافی کی طلب زیادہ ہے، وہاں بھی نئی نسل کے نوجوان چائے پینا پسند کرنے لگے ہیں۔ سینفرینسسكو جیسے چھوٹے شہر میں 30 چائے کیفے کھل گئے ہیں۔

image


سنجیو کے مطابق دنیا بھرمیں چائے کی الگ الگ قسمیں پائی جاتی ہیں، لیکن ہندوستان کی دارجلینگ کے باغات سے نکلی چائے کی خوشبو کافی مشہور ہے۔ اس کے علاوہ کانگڑا، کشمیری، نیلگیری اور آسام کی چائے بھی اپنا الگ برانڈ رکھتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ چین کے بعد ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا چائے کی پیداوار والا ملک ہے، جہاں چائَے کی کھپت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ جاپان، ارجینٹینا، ملیشیا میں بھی چائے کے اچھے باغات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سنجیو نے کہا کہ ہندوستان کی پیداوار میں 1.2 لاکھ روپئے کلا والی چائے بھی شامل ہے، لیکن اکسر اچھی خصوصیات والی چائے درامد کی جاتی ہے، اور چائے کے نام پر پاوڑر ہندوستانی بازار میں ملتا ہے، لیکن اب گرین ٹی اور دیگر مختلف اقصام کی چائَ بازار میں انے کے بعد لوگوں میں شعور بھی بڑھ رہا ہے۔

Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags