ایڈیشنز
Urdu

ایم این سی کی ملازمت چھوڑ بن گئے پولیس کانسٹیبل

30th Jan 2016
Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share

کابھی کبھی شوق اور کمائی میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا پڑتا ہے تو کسی بھی شخص کے لئے یہ بہت مشکل گھڑی ہوتی ہے۔ روپیش کرشنا راؤ پوار نے ممبئ یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کیا۔ اس کے دو سال بعد ویسا بینک میں ملازمت کی اور اب وہ پولیس کی وردی میں ملبوس ممبَئ پولیس میں ہیں۔

image


دراصل انگریزی میں مہارت نے روپیش کا آسانی سے ملازمتیں مل گئیں، لیکن گردہ خراب ہونے کی وجہ سے بیمار ان کے والد نے انہیں ایک دن پوچھ ہی لیا کہ کیا وہ اپنےوالد کی روایت کے مظابق پولس کی ملازمت حاصل نہیں کریں گے۔ روپیش کو اپنے والد کی بات پر عمل کرنا اہم لگا، حالانکہ ان کے دوستوں نے انہیں ایسا کرنے سے روکا، لیکن روپیش نے اپنی ایمانداری، محنت اور لگن سے پولس کی ملازمت میں بھی لوگوں میں اپنی جگہ بنائی۔

روپیش کا ماننا ہے کہ پولیس ایک صحتمند سماج کے لئے کافی ضروری ہے اور وہ اس کا حصہ بن کر فخر محصوص کرتے ہیں۔

سدحھارتھ ستیجیت کو ان کی زندگی کی کہانی اتنی پسند آئی کہ انہوں نے روپیش پر ایک فلم بنا ئی۔ اس فلم کا نام ہارٹ آف لائن رکھا گیا - ممبئ فلم فیسٹول میں دکھائی گئی اس فلم میں پولس فورس کے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔

دل کو چھو لینے والی ویڑیو۔۔۔


Add to
Shares
0
Comments
Share This
Add to
Shares
0
Comments
Share
Report an issue
Authors

Related Tags